بنگلورو۔21؍دسمبر(ایس او نیوز) رائچور ضلع میں2012سے 2015-16کے درمیان کرناٹکا اربن انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی طرف سے شروع کئے گئے ترقیاتی کاموں میں مبینہ دھاندلیوں کے الزام میں گیارہ سرکاری افسران کو وزیر دیہی ترقیات وپنچایت راج ایچ کے پاٹل نے معطل کرنے کی حکومت کو سفارش کی ہے۔ محکمۂ دیہی ترقیات و پنچایت راج کے وزیر کو اس سلسلے میں رائچور کے عوام کی طرف سے کی گئی شکایت کے بعد جانچ کے احکامات صادر کئے گئے۔ جانچ کی بنیاد پر یہ سامنے آیا ہے کہ 2012-13 سے 2015-16کے درمیان یہاں اس کارپوریشن کے ذریعہ کروائے گئے ترقیاتی کاموں میں مبینہ بے قاعدگیاں سامنے آئی ہیں۔ 24 مرحلوں پر ان بے قاعدگیوں کی نشاندہی ہوئی ہے، اور ان میں 48.81کروڑ روپیوں کی ہیرا پھیری کا ثبوت سامنے آیا ہے۔ جس کی بنیاد پر ان افسران کو معطل کرنے کیلئے ضروری قدم اٹھائے گئے ہیں۔ مسٹر ایچ کے پاٹل نے بتایاکہ پنچایت محکمہ کے ہیڈکوارٹرس سے منظوری کے بغیر رائچور ضلع میں تین سال کے دوران ترقیاتی کاموں میں ہوئی ان بے قاعدگیوں میں افسران نے ریاستی حکومت کو کافی بڑا دھوکہ دیاہے، ان تمام افسران کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کے احکامات صادر کئے گئے ہیں۔ جملہ 24افسران سے یہ بے قاعدگی سرزد ہوئی ہے، 13کے خلاف تحقیقات جاری رہیں گی، لیکن انہیں معطل نہیں کیا جائے گا، جبکہ گیارہ کو معطل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس سارے معاملے کی جانچ ایک وظیفہ یاب جج کے ذریعہ کروانے کا محکمہ نے فیصلہ لیا ہے۔